Jannat ka Darmyani Darwaza – Hadees Mubarak

Jannat ka Darmyani Darwaza – Hadees Mubarak

─━•<☆⊰ ســیرت النبی ﷺ ⊱☆>•━─
۔ ┈••❃⫷ قسط نمبر : ۵٩ ⫸❃••┈
۔ 🌹 ••══༻◉﷽◉༺══•• 🌹
ﺍﻟﻠﻬُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤّﺪٍ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤّﺪٍ ﻛَﻤَﺎ ﺻَﻠَﻴْﺖَ ﻋَﻠَﻰ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴْﻢَ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﺁَﻝِ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴْﻢَ ﺇِﻧَّﻚَ ﺣَﻤِﻴْﺪٌ ﻣَﺠِﻴْﺪٌ° ﺍﻟﻠﻬُﻢَّ ﺑَﺎﺭِﻙ ﻋَﻠَﻰ ﻣُﺤَﻤّﺪٍ ﻭَﻋَﻠﻰ ﺁَﻝِ ﻣُﺤَﻤّﺪٍ ﻛَﻤَﺎ ﺑَﺎﺭﻛْﺖَ ﻋَﻠَﻰ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴْﻢَ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﺁَﻝِ ﺇِﺑْﺮَﺍﻫِﻴْﻢَ ﺇِﻧّﻚَ ﺣَﻤِﻴٍﺪٌ ﻣَﺠِﻴْﺪٌ°

حضرت عمرؓ کا قبول اسلام :
۔”” “” “” “” “” “” “” “” “” “”
ظلم و طغیان کے سیاہ بادلوں کی اس گھمبیر فضا میں ایک اور برقِ تاباں کا جلوہ نمودار ہوا۔ جس کی چمک پہلے سے زیادہ خیرہ کُن تھی۔ یعنی حضرت عمرؓ مسلمان ہو گئے۔
حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ چھ (٦) نبوی کا ہے۔
(تاریخ عمرؓ بن خطاب از لابن جوزی : ١١)

وہ حضرت حمزہ رضی اللّٰہ عنہ کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے۔ قریش کے سربر آوردہ اشخاص میں ابوجہل اور حضرت عمرؓ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی دشمنی میں سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ اس لئے آنحضرت ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ ان ہی دونوں کے لئے اسلام کی دعا فرمائی۔ چنانچہ امام ترمذی نے ابن عمرؓ سے روایت کی ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے ۔

اعزالاسلام باحدالرجلین اما ابن ہشام واما عمر بن الخطاب ۔
“اے اللّٰہ ! اسلام کو ابو جہل یا عمر بن الخطاب (رضی اللّٰہ عنہ) سے معزز کر۔”
(جامع ترمذی، مناقب عمرؓ ٢٠٩/٢)

اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعودؓ سے اور حضرت انسؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا؛

اَلّٰھُمَّ اَعِزَّ الاِسلاَمِ بِاَحَبِّ الَّجُلَینِ اِلَیکَ بعمر بن الخطاب اَو بِاَبِی جہل بن ہشام •
“اے اللّٰہ ! عمر بن الخطاب اور ابوجہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا۔”

مگر یہ دولت تو قسام ازل نے حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی قسمت میں لکھ دی تھی۔ ابوجہل کے حصہ میں کیونکر آتی؟ اس دعائے مستجاب کا اثر یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اسلام کا یہ سب سے بڑا دشمن اس کا سب سے بڑا دوست اور سب سے بڑا جاں نثار بن گیا۔ یعنی حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کا دامن دولتِ ایمان سے بھر گیا۔

ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ”°
تاریخ و سیر کی کتابوں میں حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی تفصیلات میں اختلاف ہے۔ ایک مشہور واقعہ جس کو عام طور پر ارباب سیر لکھتے ہیں، یہ ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے وقت حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ کی عمر ستائیس سال تھی۔ حضرت عمرؓ اپنی تُند مزاجی اور سخت خوئی کے لئے مشہور تھے۔ مسلمانوں نے طویل عرصے تک ان کے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔

حضرت عمرؓ کی بہن فاطمہؓ کا نکاح حضرت سعید بن زید رضی اللّٰہ عنہ سے ہوا تھا۔ جو اسلام قبول کر چکے تھے۔ حضرت فاطمہؓ بھی اسلام قبول کر چکی تھیں، لیکن حضرت عمر رضی الله عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ قبیلہ کے جو لوگ اسلام لا چکے تھے حضرت عمرؓ ان کے دشمن ہو گئے۔ لبینہؓ ان کے خاندان کی کنیز تھی، جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کو بے تحاشہ مارتے، مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے کہ”دم لے لوں تو پھر ماروں گا” لبینہ رضی الله عنہا کے علاوہ اور جس جس پر قابو چلتا اس کو خوب مارتے تھے، لیکن ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے دل برداشتہ نہ کر سکے۔ آخر مجبور ہو کر (نعوذ باللہ) خود حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا اور تلوار حمائل کر کے سیدھے حضور ﷺ کے مکان کی طرف چلے۔

راستہ میں بنی زہرہ کے نعیم بن عبداللہ النّحام رضی ﷲ عنہ سے ملاقات ہوئی، پوچھا؛ “کدھر کا ارادہ ہے؟” جواب دیا کہ “محمد (ﷺ) کا فیصلہ کرنے جاتا ہوں۔” انہوں نے کہا؛ “محمد (ﷺ) کو قتل کر کے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟”

حضرت عمر رضی ﷲ عنہ نے کہا؛ “معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔”

نعیم بن عبداللہ رضی الله عنہ نے کہا؛ “عمر ! ایک عجیب بات نہ بتا دوں؟ تمہاری بہن اور بہنوئی بھی تمہارا دین چھوڑ کر “بے دین” ہو چکے ہیں۔ پہلے اپنے گھر کی خبر لو۔ !”

یہ سن کر غصے سے بے قابو ہو گئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خباب بن ارت رضی اللّٰہ عنہ سورۂ طٰہٰ پر مشتمل ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قرآن پڑھانے کے لئے وہاں آنا جانا حضرت خباب رضی الله عنہ کا معمول تھا۔ بات یہ تھی کہ جب کوئی محتاج شخص مسلمان ہوتا تو حضور ﷺ اسے کسی آسودہ حال صحابی کے سپرد کر دیتے تاکہ اس کی ضروریات کی کفالت کرے۔ اُم انمار کے غلام حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ایمان لائے تو انہیں حضرت سعید بن زید رضی الله عنہ کے سپرد کیا گیا۔ یہ دونوں حضرت خبّاب بن ارت رضی الله عنہ ہی سے قرآن سیکھ رہے تھے۔

Comments are closed.